حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مرکزی انجمنِ امامیہ بلتستان کے زیرِ اہتمام سکردو شہر سمیت بلتستان ڈویژن کے تمام چھوٹے بڑے علاقوں میں دینی و تبلیغی خدمات انجام دینے والے جید علمائے کرام، ائمہ جمعہ و جماعت اور اکابرین کا ایک روزہ کنونشن ’’علمائے بلتستان کانفرنس‘‘ کے عنوان سے 4 اکتوبر 2026ء بروز اتوار صبح نو بجے تا دن بارہ بجے مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو میں منعقد ہوا۔
کانفرنس کی صدارت امام جمعہ و الجماعت مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کی۔

کانفرنس کا آغاز حفاظ القرآن سکردو کے قراء کرام کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ رابطہ سیکریٹری انجمنِ امامیہ بلتستان سید قمر عباس حسینی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
سینئر نائب صدر انجمنِ امامیہ بلتستان شیخ زاہد حسین زاہدی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ملک و ملت کی موجودہ صورتحال، دینی و اجتماعی ذمہ داریوں اور علمائے کرام کے باہمی رابطے و تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔


کانفرنس میں عصر حاضر میں ملک و ملت کو درپیش فکری، دینی، سماجی اور معاشرتی مسائل، نوجوان نسل کی فکری و دینی تربیت، فرقہ وارانہ کشیدگی کے تدارک، اتحاد بین المسلمین اور بلتستان کے بنیادی مسائل کے حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
صدرِ انجمنِ امامیہ گانچھے علامہ شیخ ذوالفقار یعسوبی نے فرقہ وارانہ کشیدگی کے تدارک میں علماء کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے مشترکہ دینی و اعتقادی اصول اتحاد کی مضبوط بنیاد ہیں اور علماء کو غیر ذمہ دارانہ فتووں و اختلاف انگیز رویوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی نے بلتستان میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذہنی دباؤ، تعلیمی پریشر، بے روزگاری، خاندانی و معاشرتی مسائل اور ذہنی صحت کی سہولیات کی کمی جیسے عوامل کی نشاندہی کی اور ضلعی سطح پر ذہنی صحت کے مراکز، ماہرینِ نفسیات اور نوجوانوں کے لیے کونسلنگ کی سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا۔

صدرِ انجمنِ امامیہ روندو حجۃ الاسلام شیخ تقی جعفری نے تعلیم، صحت، بجلی، پانی، خوراک، روزگار، اعلیٰ تعلیم اور میرٹ سمیت بلتستان کے بنیادی مسائل اجاگر کرتے ہوئے حکومت سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

صدرِ انجمنِ امامیہ شگر حجۃ الاسلام سید عباس الموسوی نے قرآنِ کریم کی تعلیمات کی روشنی میں اتحاد بین المسلمین کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وحدت کا اصل پیغام محبت، الفت، اخوت اور خیرخواہی ہے۔
خطبۂ صدارت پیش کرتے ہوئے علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہا کہ عصر حاضر میں علماء کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ علماء کو نوجوان نسل کی فکری و دینی تربیت کرتے ہوئے الحاد اور لادینیت کے چیلنجز کا مدلل جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے قرآن، اسلام، عقل و منطق اور عصر حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں ان کی رہنمائی کی جائے تاکہ نئی نسل باشعور، باکردار اور ذمہ دار شہری بن سکے۔

کانفرنس میں سابق صدرِ انجمنِ امامیہ بلتستان مرحوم حجۃ الاسلام آغا سید عباس رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی، علمی اور ملی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔
صدرِ انجمنِ امامیہ کھرمنگ حجۃ الاسلام آغا سید علی موسوی نے مرحوم کی نجف اشرف میں بلتستانی طلبہ کی دینی تعلیم اور قوم و ملت کی خدمت کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم اپنی زندگی میں بھی قابل قدر شخصیت تھے اور ان کی وفات کے بعد بھی لوگ ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
صدرِ انجمنِ امامیہ بلتستان حجۃ الاسلام آغا سید باقر الحسینی نے علماء کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایران کے لیے جاری امدادی مہم کی تفصیلات بیان کیں اور بتایا کہ اب تک تقریباً 42 کروڑ 63 لاکھ 65 ہزار روپے منتقل کیے جا چکے ہیں۔
صدرِ انجمنِ امامیہ بلتستان نے وضاحت کی کہ امدادی رقوم کو کسی فرد، دفتر یا غیر متعلقہ ذریعے کے حوالے کرنے کے بجائے براہِ راست حکومتِ ایران اور اس کی نگرانی میں سفارتِ ایران اسلام آباد کے ذریعے پہنچایا گیا ہے، تاکہ امدادی رقم شفاف اور محفوظ طریقے سے مستحقین تک پہنچ سکے۔

انہوں نے علماء کرام سے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر مستقبل میں قوم کو کسی اجتماعی آواز کی ضرورت پیش آئی تو جس طرح ماضی میں علماء کرام متحد ہو کر میدان میں آئے ہیں، اسی طرح آئندہ بھی قوم و ملت کے مفاد میں متحد ہوکر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔
کانفرنس میں عراق سے تشریف لائے ہوئے مرکز اصحاب الکساءؑ، التابع للعتبۃ الحسینیۃ المقدسۃ کے مدیر شیخ احمد رشید الطرفی اور دیگر مہمان علمائے کرام نے بھی شرکت کی۔
شیخ احمد رشید الطرفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ علمائے کرام آلِ محمد علیہم السلام کے افکار و تعلیمات کو پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔
انہوں نے بلتستان کے علماء کی دینی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرکز اصحاب الکساءؑ عتبہ حسینیہ مقدسہ کے زیر انتظام دنیا کے 22 ممالک میں دینی و تبلیغی خدمات انجام دے رہا ہے۔

اس موقع پر شیخ احمد رشید الطرفی نے مرکز اصحاب الکساءؑ، التابع للعتبۃ الحسینیۃ المقدسۃ کی جانب سے امام جمعہ والجماعت مرکزی امامیہ جامع مسجد سکَردو میں علامہ شیخ محمد حسن جعفری کو خصوصی شیلڈ بھی پیش کی۔
کانفرنس کے اختتام پر علماء کرام نے باہمی رابطے، اتحاد و اخوت، نوجوان نسل کی فکری تربیت اور قوم و ملت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ ملک و ملت، علماء کرام، بیمار افراد اور مرحومین کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔










آپ کا تبصرہ